سمکی سولر لیباریٹریز -   لاھور

 

اگرچہ لوگ شمسی توانائی کو پاکستان میں مختلف درجوں پر استعمال کر رھے ھیں- پھر بھی اس کا استعمال بہت کم جگہوں پہ ھے- ھم اسے ایک اعزاز تصور کرتے ھیں کہ ھم اس کے فوائد ایک عام استعمال کنندہ تک پہنچا رھے ھیں- اس طرح ھم اوپر ے نیچے آنے کی بجاۓ نیچے سے اوپر جا نے کا راستہ اختیار کر رھے ھیں- یہ ھمارے ملک میں ایک نیا خیال ھے- کیونکہ ھم پانی یا تیل سے حاصل کردہ بجلی استعمال کرنے کے عادی ھیں-کچھ جوہری توانائی کے مراکز کراچی اور چشمہ ( میانوالی )میں ھیں-

شمسی بجلی کوکئ لحاظ سے پانی کی یا جوہری توانائی کی بجلی کے مقابل رکھا جا سکتا ھے- لیکن اس کا لگانا قدرے جلد اور آسان ھے- اس کی زندگی بھی لمبی ھے-  جو کہ کم از کم 25 سال ھے- اس کے بعد یہ 20 فیصد تک کمزور ھوکر بھی دس پندرہ سال اور چلے گی- شمسی پینل لگانا ذرا نازک کام ھے- انہیں توڑ پھوڑ سےبچانا ضروری ھے- یہی ان کے لۓ احتیاط ھے- کیونکہ یہ شیشے کے بنے ھوتے ھیں- ان کو لگانے کے لۓ حسب ضرورت کھلی جگہ درکار ھے- ان کی قیمت کوالٹی اور کارکردگی پر ھوتی ھے- خلا میں یہی استعمال ھوتے ھیں- یہ بازار میں دستیاب تجارتی پینلوں سے بہت مہنگے ھوتے ھیں-

اسکی بجلی نیون یا ٹیوب لائٹ اشتہاروں کے لۓ بہت موزوں ھے- جہاں بجلی کے استعمال کا ھمارا ملک متحمل نہیں ھو سکتا-عام بورڈ بنانے والے ایک مربع فٹ پر 10 واٹ کا ٹیوب لائٹ لوڈ استعمال کرتے ھيں- ھم اس کےلئے 5۔4 واٹ کے انرجی سیور لائٹ کا نظریہ پیش کرتے ھیں- خصوصی طور پر بنائی گئی ڈائوڈ لائٹیں اس کام کےلۓ موزوں ھو سکتی ھیں اگر آسانی سے مل سکتی ھوں۔  یہ نہ صرف مہنگی پڑتی ھیں بلکہ ھر جگہ دستیاب بھی نہیں ھوتیں- چند پاکستانی کمپنیاں ایسی لائٹوں کو سٹریٹ لائٹ سسٹم میں استعمال کر رہی ھیں-

ھم قیمت کے لحاظ سے اچھی کارکردگی والے اول درجہ کے شمسی پینل استعمال کرتے ھیں- یہ پاکستان میں امپورٹ کۓ جاتے ھیں- روسری متعلقہ اشیا بھی حہاں تک موزوں ھو امپورٹ شدہ ھیں- ھم نے تین بنیادی یونٹ متعارف کۓ ھیں- سب سے چھوٹے انتہائی لوڈ 1000 واٹ' پھر 1800 واٹ اور 2800 واٹ کے ھیں- ان کی تفصیل نیچے ٹیبل میں دی گئ ھے- جن کی تفصیل کے لۓ متعلقہ پراڈکٹ لنک پر جائیں-  یہ تمام سیل بند بیٹریاں استعمال  کرتے ھیں۔

حکومت پاکستان نے 80 واٹ تک کے 10 گھنٹہ روزانہ استعمال والے یونٹ بہت چھٹے گھروں کے لۓ بعض علاقوں میں لگاۓ ھیں- لیکن ان سے چلنے والی اشیا صرف بیٹری سےچلتی ھیں- گھر والی بجلی کی طرح نہیں- ھمارا سب سے چھوٹا یونٹ بھی اس سے بڑا ھے۔

             موزونیت

       روزانہ استعمال

            استعداد

          اندازہ خرچ

      بہت چھوٹے گھر

بہت چھوٹے گھر ککے لئے بہت موزوں ھے۔

    انتہائی لوڈ =  تقریبا" 1000 واٹ

  53000ھزار  معہ بیٹریاں

 چھوٹے گھر بغیر ائر کنڈیشنر کے

    5 تا 6 یونٹ بجلی کے 

     انتہائی لوڈ =  تقریبا"1800 واٹ

    2،48،000 معہ بیٹریاں

 درمیانے گھر بغیر ائر کنڈیشنر کے

  10 تا 12 یونٹ بجلی کے

     انتہائی لوڈ =  تقریبا" 2800 واٹ

    4،95،000 معہ بیٹریاں

اور اوپری درجہ کی ھزاروں واٹ تک کوئی حد نہیں-

نوٹ: وقتی طور پر ھم اس توانائی کا زراعت میں پانی نکالنے کےلۓ مشورہ نہیں دیں گے کیونکہ اس میں حسب گہرائی بہت طاقتور موٹریں استعمال ھوتی ھیں- ٹیوب ویلوں کے لۓ واپڈا کی فلیٹ ریٹ پردی گئی عام بجلی ہی سستی رہتی ھے- کیونکہ ایک 10 ہارس پاور کی موٹر جو 5 یا 6 انچ والا ٹیوب ویل چلائے' 24 گھنٹہ چلنے کے لۓ موجودہ ریٹ پر ساٹھ لاکھ روپے درکار ھونگے- یا اس سے تقریبا" آدھی قیمت پر اگر خصوصی ڈی سی پر چلنے والے پمپ استعمال کئے جاںیں جو کہ ویسے ھی بہت مہنگے ھیں۔

انتہائی لوڈ 1000 واٹ کا ھمارا یونٹ ایک 40 واٹ تک کے درمیانہ سائز کے پنکھے کو سارا دن اور رات اور 13 واٹ کے 2 انرجی  سیور تمام رات چلا سکتا ھے- یا ایک چوتھائی ہارس پاور کی موٹر 6 گھنٹہ چلا سکتے ھیں- یا ایک 20 انچ کا ٹی وی یا کمپیوٹر 8 گھنٹہ چلاسکتے ھیں- وغیرہ وغیرہ- یہ ایک بہت چہوٹے گھر کے لۓ کافی ھے- اگر آپ 20 واٹ کا چھوٹا پنکھا استعمال کریں تو دو پنکھے چلا سکتے ھیں۔ چھت کے عام پنکھے بجلی ضائع کرتے ھیں۔

قیمت کا حساب :  ایک یو ایس ڑالر = 90 روپے پاکستانی